:
Breaking News

Indian Politics: دہلی-این سی آر میں خواتین کی حفاظت پر سپریم کورٹ سخت، دہلی پولیس سے حفاظتی اقدامات کی رپورٹ طلب

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دہلی-این سی آر میں خواتین اور نابالغوں کے خلاف جنسی جرائم پر سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے جرائم کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔

نئی دہلی، 5 اکتوبر، عالم کی خبر: دہلی-این سی آر میں خواتین اور نابالغوں کے خلاف بڑھتے جنسی جرائم کے معاملے پر سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے سخت سوالات کیے ہیں۔ جسٹس جے بی پردی والا اور جسٹس کے. ونود چندرن کی بنچ نے پولیس سے پوچھا کہ جرائم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے انہیں پہلے ہی روکنے کے لیے یعنی پریوینٹو پولیسنگ کے تحت کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عدالت نے دہلی پولیس سے خواتین اور بچوں کی حفاظت کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کی اسٹیٹس رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف کاغذوں پر احکامات، ہدایات اور منصوبے بنانے سے خواتین کی حفاظت یقینی نہیں ہوگی۔ ان اقدامات کا اثر زمینی سطح پر بھی نظر آنا چاہیے۔ عدالت نے حساس علاقوں میں پولیس کی موجودگی، نگرانی اور فوری کارروائی کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔

جرم سے پہلے روک تھام پر توجہ

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پولیسنگ کا مقصد صرف جرم کے بعد کارروائی کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ممکنہ جرم کو پہلے ہی روکنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔ اگر کسی علاقے میں خواتین یا نابالغوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، تعاقب یا دیگر جنسی جرائم کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو پولیس کو ان واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مستقبل کے جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

عدالت نے دہلی پولیس سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسے حساس علاقوں کی شناخت کیسے کی جا رہی ہے اور وہاں نگرانی اور گشت کا نظام کس حد تک مؤثر ہے۔

مجرموں کے ذہن میں قانون کا خوف ضروری

جسٹس جے بی پردی والا نے سماعت کے دوران جرائم پیشہ افراد کے ذہن میں قانون کا خوف پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سنگین جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کو مؤثر اور سخت کارروائی کرنی ہوگی تاکہ ایسے جرائم کا ارادہ رکھنے والوں کو قانون کی گرفت کا خوف رہے۔

تاہم سخت کارروائی کا مطلب قانونی عمل سے باہر جانا نہیں ہے۔ گرفتاری، تفتیش، چارج شیٹ اور مقدمے کی کارروائی آئینی اور قانونی ضابطوں کے مطابق ہی ہونی چاہیے۔ سماعت کے دوران آئین کے آرٹیکل 21 یعنی زندگی اور شخصی آزادی کے حق اور انسانی حقوق سے متعلق پہلوؤں پر بھی گفتگو ہوئی۔

رات میں بھی خواتین خود کو محفوظ محسوس کریں

سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی میں خواتین کو صرف دن کے وقت ہی نہیں بلکہ رات کے وقت بھی محفوظ محسوس ہونا چاہیے۔ چاہے کوئی خاتون رات 10 بجے پیدل جا رہی ہو، میٹرو میں سفر کر رہی ہو یا سڑک کے ذریعے اپنے گھر واپس لوٹ رہی ہو، اسے پولیس اور انتظامیہ پر اعتماد ہونا چاہیے۔

اس کے لیے کم آمدورفت والے اوقات میں پولیس گشت، اسٹریٹ لائٹس، سی سی ٹی وی نگرانی اور فوری مدد کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

اسکول اور کالج کے اطراف بھی نگرانی ضروری

عدالت نے اسکولوں اور کالجوں کے آس پاس خواتین اور طالبات کی حفاظت پر بھی توجہ دینے کی ہدایت دی۔ تعلیمی اداروں کے باہر اکثر نئے طلبہ و طالبات کو شرپسند عناصر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ایسے مقامات پر پولیس کی مؤثر نگرانی اور گشت ضروری ہے۔

عدالت کی سابقہ کارروائی میں بھی تعلیمی اداروں کے علاوہ پارک، سڑک، بازار، عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا تھا۔

سی سی ٹی وی، اسٹریٹ لائٹ اور پولیس گشت کا جائزہ

سپریم کورٹ نے حساس اور کمزور علاقوں کی نشاندہی، سی سی ٹی وی کیمروں کی دستیابی اور ان کی کارکردگی، اسٹریٹ لائٹس کی حالت اور پولیس گشت کے نظام کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔

عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ جو حفاظتی نظام سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں، وہ حقیقت میں زمینی سطح پر کس حد تک کام کر رہے ہیں۔ اگر کسی حساس علاقے میں کیمرے نصب ہیں لیکن کام نہیں کر رہے، یا اسٹریٹ لائٹس خراب ہیں، تو صرف سرکاری فہرست میں ان کا موجود ہونا خواتین کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

زیر التوا جنسی جرائم کے مقدمات پر بھی تیزی

سپریم کورٹ نے جنسی جرائم سے متعلق زیر التوا مقدمات میں بھی تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ عدالت نے پولیس سے کہا کہ سنگین جرائم کی تفتیش بروقت مکمل کی جائے اور جہاں ضروری ہو وہاں جلد چارج شیٹ داخل کی جائے۔

عدالت کی توجہ صرف جرم کے بعد کی کارروائی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس پورے نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے ذریعے خواتین اور بچوں کو جرم کا شکار ہونے سے پہلے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

کن واقعات کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا؟

سپریم کورٹ نے دہلی-این سی آر میں خواتین اور نابالغوں سے متعلق کئی سنگین واقعات کی میڈیا رپورٹس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے یہ کارروائی شروع کی تھی۔ ان میں آستھا کنج پارک میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری، سوروپ نگر میں ایک نابالغ لڑکی سے مبینہ عصمت دری اور قتل اور گریٹر نوئیڈا سے دہلی آنے والی بس میں نابالغ کے مبینہ جنسی استحصال کا معاملہ شامل ہے۔

عدالت نے ان واقعات کو صرف الگ الگ جرائم کے طور پر دیکھنے کے بجائے دہلی میں خواتین کی مجموعی حفاظت، پولیسنگ اور عوامی مقامات کی سکیورٹی کے نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد ضروری

سپریم کورٹ نے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی خواتین کی حفاظت کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ خواتین اور بچوں کو کسی خطرے یا شکایت کی صورت میں پولیس سے رابطہ کرنے میں خوف یا جھجھک نہیں ہونی چاہیے۔

اگر کسی علاقے میں بار بار چھیڑ چھاڑ، تعاقب یا ہراساں کیے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں تو پولیس کو انہیں معمولی واقعات سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے ممکنہ سنگین جرم کے اشارے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

صرف کاغذ نہیں، زمین پر کارروائی چاہیے

سپریم کورٹ کی کارروائی کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ خواتین کی حفاظت سے متعلق احکامات صرف فائلوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ حساس علاقوں میں پولیس گشت، سی سی ٹی وی، اسٹریٹ لائٹس، عوامی ٹرانسپورٹ کی نگرانی اور فوری امداد کا نظام حقیقت میں فعال ہونا چاہیے۔

عدالت نے دہلی پولیس سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کرکے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے اب تک جو اقدامات کیے گئے ہیں، ان کا زمینی اثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خواتین کی حفاظت کے لیے عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، بازاروں، پارکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مؤثر نگرانی کے ساتھ ساتھ پولیس گشت اور فوری مدد کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

اداریہ خیال

خواتین کی حفاظت صرف جرم کے بعد پولیس کارروائی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پولیس کسی ممکنہ جرم کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے میں کامیاب ہو۔ اگر کسی علاقے میں اندھیرا ہے، سی سی ٹی وی خراب ہے، پولیس گشت کم ہے یا پہلے سے شکایات موجود ہیں تو ان خامیوں کو کسی بڑے واقعے کے بعد دور کرنے کے بجائے پہلے ہی ختم کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کی سختی اسی بنیادی سوال کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے سرکاری احکامات کتنے مؤثر طریقے سے زمین پر نافذ ہو رہے ہیں۔ دہلی جیسے بڑے شہر میں خواتین کا اعتماد اسی وقت بڑھے گا جب انہیں یقین ہوگا کہ خطرے کی صورت میں پولیس فوری مدد کے لیے پہنچے گی اور سنگین شکایات پر مؤثر کارروائی ہوگی۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *